الحمد للہ.
نکاحِ متعہ کا حکم
نکاحِ متعہ دراصل وقتی (مؤقت) نکاح ہے، اور جمہور اہلِ علم کے نزدیک یہ حرام اور باطل ہے۔ اس کی حرمت پر اجماع بھی نقل کیا گیا ہے، خواہ وہ ولی اور گواہوں کے ساتھ ہو یا ان کے بغیر۔
چنانچہ ابن قدامہ رحمہ اللہ ’’المغنی‘‘ (7/178) میں فرماتے ہیں:
’’(نکاحِ متعہ جائز نہیں) نکاحِ متعہ کا مطلب یہ ہے کہ عورت سے ایک مقررہ مدت کے لیے نکاح کیا جائے، جیسے یہ کہا جائے: میں نے اپنی بیٹی کا نکاح تم سے ایک مہینے کے لیے، یا ایک سال کے لیے، یا موسم ختم ہونے تک، یا حاجیوں کی آمد تک کر دیا۔ اور اس جیسی کوئی بھی محدود مدت کے لیے نکاح کیا جائے خواہ مدت معلوم ہو یا مجہول۔ ہر حالت میں یہ نکاح باطل ہے۔ اس پر امام احمد نے صراحت کی ہے، چنانچہ انہوں نے فرمایا: نکاحِ متعہ حرام ہے۔۔۔اور یہ صحابہ کرام اور فقہائے عظام کا موقف ہے۔
اور جن صحابہ کرام سے اس کی حرمت منقول ہے ان میں عمر، علی، ابن عمر، ابن مسعود، اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ اسی طرح ابن عبد البر کہتے ہیں: نکاحِ متعہ کی حرمت پر امام مالک، اہلِ مدینہ، اہلِ عراق میں ابو حنیفہ، اہلِ شام میں اوزاعی، اہلِ مصر میں لیث، امام شافعی، اور تمام اہل اثر اس پر متفق ہیں۔‘‘ ختم شد
سوال میں وارد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اثر کی توضیح
سوال میں مذکور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اثر کو عبد الرزاق نے ’’المصنف‘‘ (14021) میں روایت کیا ہے، حضرت یعلیٰ سے، کہ معاویہ نے طائف میں ایک عورت سے متعہ کیا، تو اس عورت نے اس پر نکیر کی۔ ہم ابن عباس کے پاس گئے اور بعض نے یہ بات ان سے بھی ذکر کر دی ، تو انہوں نے کہا: ہاں۔ لیکن میرے دل کو اطمینان نہ ہوا یہاں تک کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما آئے تو ہم ان کے بھی گھر گئے۔ لوگوں نے ان سے کئی مسائل پوچھے، پھر متعہ کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: ’’ہاں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں، اور ابو بکر اور عمر کے دور میں متعہ کرتے تھے، یہاں تک کہ عمر کی خلافت کے آخری زمانے میں عمرو بن حریث نے ایک عورت سے متعہ کیا — جابر نے اس کا نام بتایا تھا، مگر میں بھول گیا — وہ عورت حاملہ ہو گئی، یہ بات عمر تک پہنچی، تو انہوں نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا۔ اس عورت نے متعہ کا اقرار کرتے ہوئے کہا: جی ہاں۔ اس پر عمر نے فرمایا: کس کو گواہ بنایا؟ عطا کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں، عورت نے کہا: میری ماں یا اس کا ولی۔ عمر نے فرمایا: ان دونوں کے علاوہ کسی اور کو کیوں نہ گواہ بنایا؟ راوی کہتے ہیں: انہیں اندیشہ ہوا کہ کہیں معاملہ زیادہ گھمبیر نہ ہو۔‘‘
ابن عبد البر نے بھی ’’التمہید‘‘ (10/114) میں اسے عبد الرزاق کی طرف منسوب کرتے ہوئے اس لفظ کے ساتھ نقل کیا ہے:
’’عورت نے کہا: میری ماں اور اس کا بیٹا، یا اس کا بھائی اور اس کا بیٹا۔ عمر نے فرمایا: ان کے علاوہ کیوں نہ کسی اور کو گواہ بنایا؟ پھر انہوں نے اس سے منع کر دیا۔‘‘
اور مسلم (1405) میں ابو الزبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا:
’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور ابو بکر کے زمانے میں، اور عمر کے ابتدائی دور میں، چند دن کے لیے کھجور اور آٹے کی ایک مٹھی کے عوض متعہ کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ عمر نے عمرو بن حریث کے معاملے میں اس سے منع کر دیا۔‘‘
ظاہر یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گواہوں کے بارے میں سوال اس لیے کیا تھا تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ یہ معاملہ زنا ہے یا نکاحِ متعہ؟ اور اس پر ان کا یہ قول دلالت کرتا ہے: ’’ انہیں اندیشہ ہوا کہ کہیں معاملہ زیادہ گھمبیر نہ ہو۔ ‘‘
جب یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ نکاحِ متعہ ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کر دیا۔
اور ان کے قول: ’’ان کے علاوہ کسی اور کو گواہ کیوں نہ بنایا؟‘‘ میں اس بات کی وضاحت ہے کہ نکاح میں عورت کی گواہی معتبر نہیں ہوتی۔
واضح ہوا کہ اس اثر میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ اگر متعہ گواہوں کے ساتھ ہو تو جائز ہو جاتا ہے، یا اگر دو مرد گواہ ہوں تو درست ہو جاتا ہے، بلکہ اس میں متعہ اور زنا کے درمیان فرق واضح کرنا، اور صحیح نکاح میں مرد گواہوں کی شرط کی تعلیم اور رہنمائی مقصود ہے۔
مزید فائدے کے لیے سوال نمبر: (20738) کے جواب ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
واللہ اعلم