الحمد للہ.
اگر گاہک ایسی ڈیوائسز خریدنا چاہتا ہے جو فی الحال آپ کی ملکیت میں نہیں، تو اس کے ساتھ حسبِ ذیل صورتوں میں شرعی طور پر معاملہ درست ہے:
اول: اجرت پر وکالت
اس کی صحیح کیفیت یہ ہے کہ آپ گاہک کو مطلوبہ ڈیوائس اور اس کی صفات و اوصاف کے ساتھ اس کی مارکیٹ میں حقیقی قیمت سے آگاہ کریں، جس قیمت پر وہ فروخت ہو رہی ہے، اور اس قیمت میں کوئی اضافہ نہ کریں۔ پھر آپ اس کے لیے بطورِ وکیل وہ چیز خرید لیں، اور اس خدمت کے بدلے یا تو قیمت کے ایک متعین فیصد کی صورت میں معاوضہ لیں یا ایک طے شدہ اجرت وصول کریں۔ اس طریقے میں جب چیز وہی ہو جس کا اس نے مطالبہ کیا تھا تو گاہک کے لیے محض ارادہ بدلنے کی بنا پر پیچھے ہٹنا درست نہیں ہو گا۔ اگر وہ اس پر اصرار کرے تو آپ چونکہ اس کے وکیل ہیں، اس لیے آپ کو یہ اختیار ہو گا کہ ممکن ہو تو چیز کو اسی کے بائع کے پاس واپس کر دیں۔ آغاز میں یہ شرط بھی رکھی جا سکتی ہے کہ آپ خریداری اور عیب دار مال کی واپسی میں اس کے وکیل ہیں، مگر صحیح سالم چیز ہونے کی صورت میں محض ’’اقالہ‘‘ یا فسخ کے وکیل نہیں۔
اجرت کے باب میں راجح یہ ہے کہ اسے کسی معلوم چیز کے تناسب کے طور پر بھی متعین کیا جا سکتا ہے، جیسے قیمت کا فلاں فیصد، چاہے اجرت خریداری کے بدلے ہو یا فروختگی کے۔
چنانچہ ’’کشاف القناع‘‘(3/615) میں مساقات [یعنی :فصل، پھل دار درخت وغیرہ کی دیکھ بھال کے لیے کسی کو اسی زیر نگہداشت فصل یا پھل میں سے مخصوص تناسب پر رکھنا۔ مترجم] اور مزارعت [یعنی: زرعی زمین پر کھیتی باڑی کے لیے کسی کو اسی زمین کے زرعی محصول میں سے مخصوص تناسب پر رکھنا۔ مترجم] پر قیاس کرتے ہوئے اس نوع کی اجرت کا جواز بیان کیا گیا ہے کہ : ’’کسی کے سامان تجارت کو اس کے منافع کے معروف تناسب کے بدلے بیچنا‘‘ درست ہے۔ ختم شد
اسی طرح ’’فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ‘‘(13/125)میں ایک شخص نے دریافت کیا کہ وہ بیرونِ ملک کپڑوں اور غذائی اشیاء بنانے والی کمپنیوں کا ایجنٹ اور دلال ہے، کمپنیاں اپنی مصنوعات کے نمونے اور ہر آئٹم کی قیمتیں بھیجتی ہیں، وہ یہ مال بازار کے تاجروں کو کمپنی کی قیمت پر بیچتا ہے اور کمپنی سے طے شدہ تناسب کے ساتھ کمیشن لیتا ہے ؛کیا اس میں کوئی گناہ تو نہیں؟
جواب میں کہا گیا: اگر حقیقت وہی ہے جو آپ نے بیان کی ہے تو آپ کا یہ کمیشن لینا جائز ہے ، آپ پر کوئی گناہ نہیں۔
عبد اللہ بن غدیان، عبد الرزاق عفیفی، عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز۔ ختم شد
وکالت کی صورت میں یہ بات بھی لازم ہے کہ آپ گاہک کے لیے کسی چیز کی ضمانت اپنے ذمے نہ لیں، اس لیے کہ وکیل امین ہوتا ہے، وہ ضامن نہیں ہوتا، الا یہ کہ وکیل خود ہی نقصان کرے یا وکیل کی کوتاہی کی وجہ سے نقصان ہو۔
دوم: بیعِ مرابحہ
اس صورت میں آپ پہلے خود وہ ڈیوائس خریدیں جسے گاہک نے طلب کیا ہے، اور اس سے پہلے محض وعدے کے مرحلے میں اس سے کوئی رقم نہ لیں۔ آپ اپنی طرف سے نقد یا اُدھار جس طرح ممکن ہو خرید لیں، پھر جب وہ چیز آپ کے قبضے میں آ جائے تو آپ اسے گاہک کو ایک معلوم منافع کے ساتھ بیچ دیں، چاہے نقد بیچیں یا اقساط میں۔
مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر : (229091)ملاحظہ کریں۔
مزید سہولت کے لیے بہتر ہے کہ آپ اپنی خریداری میں اپنے لیے ایک مختصر مدت کا ’’خِیار الشرط‘‘ رکھ لیں تاکہ اگر خریدار اپنے وعدے سے پھر جائے تو آپ کے لیے یہ ممکن ہو کہ اسی مدت کے اندر اندر اس چیز کو اصل بائع کو واپس لوٹا دیں، یا اگر پسند کریں تو کسی دوسرے گاہک کو فروخت کر دیں۔
سوم: عقدِ سلم
اس کی صورت یہ ہے کہ آپ کسی ایسی چیز کو جس کے اوصاف و صفات پوری طرح متعین ہوں فروخت کر دیں جسے آپ مخصوص دورانیے میں فراہم کرنے کے پابند ہوں اور اس کے لیے شرط یہ ہو کہ خریدار پوری قیمت مجلسِ عقد میں نقد ادا کرے۔ اس لیے کہ ’’بیع سلم‘‘ کی تعریف یہ ہوتی ہے کہ’’ موصوف چیز کی بیع کسی کے ذمے لازم ہو جانا جس کی قیمت مجلسِ عقد میں نقداً وصول کی جائے اور موصوف چیز مقررہ میعاد کے اندر بعد میں دی جائے‘‘۔ جیسے کہ ’’ہدایۃ الراغب‘‘ ص 338 میں ہے: ’’السَّلَم شرعاً: عقدٌ على موصوفٍ في ذمّةٍ، مؤجّلٍ، بثمنٍ مقبوضٍ بمجلسِ عقدٍ۔‘‘
پس اگر گاہک پورا ثمن ادا کرنے سے انکار کرے تو بیع سلم صحیح نہیں ہو گی۔ اور یہ بات کہ آپ چیز کے فقدان کی صورت میں گاہک کو اس کا متبادل دیں گے، معتبر نہیں، کیونکہ سلم کی شرط وہی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے، اور اسے امام شافعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان سے مستنبط کیا ہے: مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ، فَلْيُسْلِفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ترجمہ: ’’جو شخص کھجور کی بیع سلم کرے تو ادائیگی کرتے ہوئے معلوم پیمانے، معلوم وزن اور معلوم مدت تک کرے‘‘ (بخاری: 2240، مسلم: 1604)۔ پس حدیث کے لفظ ’’ فَلْيُسْلِفْ ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ مجلسِ عقد ہی میں پوری قیمت پیش کر دی جائے، تاکہ معاملہ بیعُ الکالیءِ بالکالیءِ، یعنی نہ چیز ہے اور نہ ہی قیمت مطلب کہ معدوم کی معدوم کے عوض بیع نہ بنے، کیونکہ اس وقت مطلوبہ چیز حاضر نہیں ہوتی۔
’’مسائل الإجماع‘‘ (2/239)میں ابن القَطّان کے مطابق : ’’ علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ سَلم کا سودا تبھی درست ہوتا ہے جب سودا طے ہونے والی نشست (مجلس) میں ہی خریدار پوری قیمت فوراً ادا کر دے۔ اگر دونوں فریق ادائیگی کیے بغیر اُٹھ جائیں تو یہ سلم باطل ہے۔ البتہ امام مالک کے نزدیک ایک رعایت ہے: اگر شروع میں فوری ادائیگی کو شرط بنا کر لازم نہ کیا گیا ہو اور ایک دو دن کے اندر ہی قیمت ادا کر دی جائے تو اس میں حرج نہیں۔ ‘‘ ختم شد
اگر گاہک کی ضرورت ایسی ہو کہ کوئی چیز نئے سرے سے بنانی یا تیار کرانی ہو—جیسے کوئی پروگرام، سافٹ ویئر یا مخصوص ڈیوائس—تو یہ ’’استصناع‘‘ کا عقد ہو گا، اور اس میں پورا سرمایہ آغاز ہی میں دینا شرط نہیں، خواہ آپ خود تیار کریں یا کسی تیسرے فریق کاریگر سے تیار کرائیں۔
مزید کے لیے سوال نمبر : (2146) کا جواب ملاحظہ کریں۔
اس طرح ’’تیار شدہ بیچی جانے والی ڈیوائس‘‘ اور ’’وہ جو تیار کرنی مقصود ہو‘‘ میں شرعی فرق واضح ہو جاتا ہے۔
واللہ اعلم