ہفتہ 27 ربیع الثانی 1448 - 10 اکتوبر 2026
اردو

کیا پیشاب اور پاخانہ روکنے کی حالت میں نماز پڑھنے کی ممانعت اس عمل کی حرمت بیان کرتی ہے؟

347677

تاریخ اشاعت : 23-10-2026

مشاہدات : 1

سوال

نماز میں پیشاب اور پاخانہ روکنے کی ممانعت حرمت کے لیے ہے یا کراہت کے لیے؟ اگر کراہت کے لیے ہے تو وہ کون سی دلیل ہے جس کی بنا پر اس ممانعت کو حرمت کے بجائے کراہت پر محمول کیا گیا ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (کھانا سامنے موجود ہو تو نماز نہ پڑھی جائے، اور نہ اس حالت میں جب پیشاب یا پاخانے کا دباؤ ہو۔)  صحیح مسلم: (560)

اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ پیشاب یا پاخانہ روکنے سے نماز کے افعال اور خشوع میں خلل پڑ سکتا ہے، جیسا کہ اس حالت میں نماز پڑھنے والے کی کیفیت سے معلوم ہوتا ہے۔ اسی لیے اہل علم نے پیشاب اور پاخانے کے ساتھ ہر ایسی چیز کو بھی شامل کیا ہے جو نمازی کی توجہ تقسیم کرتی ہو اور جسے وہ دور کر سکتا ہو، مثلاً ریح، قے وغیرہ۔

بدرالدین عینی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان: (اور نہ اس حالت میں جب پیشاب اور پاخانے کا دباؤ ہو۔) کا مطلب ہے کہ پیشاب اور پاخانہ روکنے کی حالت میں نماز نہ پڑھے؛ کیونکہ اس حالت میں وہ یکسوئی کے ساتھ عبادت نہیں کر سکتا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’شرح سنن ابی داود‘‘ ‏(1/247)

ابن عبدالبر رحمہ اللہ  کہتے ہیں:
’’اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر کسی شخص نے کھانا سامنے ہوتے ہوئے نماز پڑھی، لیکن نماز مکمل ادا کی اور اس کے فرائض میں سے کچھ بھی نہیں چھوڑا، تو اس کی نماز ادا ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر پیشاب روک کر نماز پڑھی اور اسے مکمل ادا کیا تو بھی یہی حکم ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانا سامنے ہوتے ہوئے نماز پڑھنے کی ممانعت اس لیے ہے کہ نمازی کا دل کھانے میں نہ لگ جائے، جس سے وہ نماز سے غافل ہو اور اس کے ضروری تقاضے پورے نہ کر سکے۔

پیشاب روکنے والے کا بھی یہی حکم ہے۔ اگرچہ ہم اس حالت میں کسی بھی شخص کے نماز شروع کرنے کو مکروہ سمجھتے ہیں، لیکن اگر اس نے نماز پڑھ لی اور نماز میں کوئی خلل نہ آیا تو اس کی نماز ادا ہو جائے گی، البتہ اس نے بہت برا کیا۔

انسان اپنی حالت کو خود زیادہ جانتا ہے۔ اس معاملے میں سب لوگوں کی کیفیت یکساں نہیں ہوتی، اور نہ بوڑھے کی حالت جوان جیسی ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’الاستذکار‘‘ ‏(6/206)

اسی علت کی بنا پر، یعنی پیشاب اور پاخانہ روکنے سے نمازی کی توجہ نماز سے ہٹ جاتی ہے، یہ ممانعت اس وقت حرمت کے لیے ہوگی جب اس دباؤ کی وجہ سے نماز کے واجبات یا ارکان میں خلل پڑے۔

ابن عبدالبر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’علمائے کرام کا اجماع ہے کہ کسی شخص کو پیشاب روک کر نماز نہیں پڑھنی چاہیے، اگر پیشاب روکنا اسے نماز کے کسی بھی فرض کی ادائیگی سے غافل کرتا ہو، خواہ معمولی سا ہی خلل پڑتا ہو۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’الاستذکار‘‘ ‏(6/205)۔

لیکن اگر دباؤ ہلکا ہو اور اس سے نماز کے واجبات میں خلل نہ پڑتا ہو تو اس حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہوگا؛ کیونکہ اس سے نمازی کسی واجب کو ترک نہیں کرتا، بلکہ ایک مکروہ کیفیت، یعنی دل کی پوری طرح حاضری نہ ہونے میں مبتلا ہوتا ہے۔ پیشاب اور پاخانہ روکنے سے نمازی کی توجہ نماز میں غور و فکر سے کچھ نہ کچھ ضرور ہٹتی ہے۔

ابن عبدالبر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اہل علم کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جس نے پیشاب روک کر نماز پڑھی، لیکن اپنی نماز مکمل ادا کی۔

ابن قاسم کی روایت کے مطابق امام مالک نے فرمایا: اگر پیشاب کے دباؤ نے اسے مشغول رکھا اور اس نے اسی حالت میں نماز پڑھ لی تو میں پسند کرتا ہوں کہ وہ وقت کے اندر بھی نماز دوبارہ پڑھے اور وقت گزرنے کے بعد بھی۔

امام شافعی، ابو حنیفہ اور عبداللہ بن حسن نے کہا: پیشاب روکنے کی حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، تاہم اگر نماز کے فرائض میں سے کچھ نہ چھوڑا ہو تو اس کی نماز درست ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’الاستذکار‘‘ ‏(6/205)

ابن دقیق العید رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’پیشاب اور پاخانہ روکنے سے یا تو نماز کے کسی رکن یا شرط میں خلل پڑتا ہے یا نہیں پڑتا۔

اگر اس سے خلل پڑتا ہو تو اس حالت میں نماز شروع کرنا جائز نہیں۔

اگر نماز شروع کر دی اور کسی رکن یا شرط میں خلل آ گیا تو اسی خلل کی وجہ سے نماز فاسد ہو جائے گی۔

اور اگر اس سے خلل نہ پڑتا ہو تو مشہور قول کے مطابق اس حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’إحکام الأحکام شرح عمدۃ الأحکام‘‘ ‏(1/146)

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب