جمعہ 26 ربیع الثانی 1448 - 9 اکتوبر 2026
اردو

عورت محرم کے بغیر سفر نہیں کر سکتی، خواہ سفر مختصر ہی کیوں نہ ہو

سوال

میں جانتا ہوں کہ عورت کے لیے محرم کے بغیر سفر کرنا جائز نہیں، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ "سفر" سے کیا مراد ہے؟ اگر سفر کا تعین مسافت سے ہوتا ہے تو یہ مسافت کہاں سے شمار کی جائے گی؟ کیا آبادی ختم ہونے کے بعد سے، یا کسی اور مقام سے؟ نیز یہ بھی بتائیے کہ میرے والد کی مصر۔اسماعیلیہ روڈ پر ایک زرعی زمین ہے، وہ چاہتے ہیں کہ ہم وقتاً فوقتاً وہاں جائیں، اور وہ ہمارے گھر سے زیادہ سے زیادہ تقریباً سوا گھنٹے کی مسافت پر ہے، تو کیا یہ سفر شمار ہو گا یا نہیں؟ خاص طور پر جبکہ راستے کا بیشتر حصہ نئی آبادیوں، اسکولوں، کمپنیوں اور زرعی زمینوں پر مشتمل ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

صحیح اور صریح سنت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کے لیے محرم کے بغیر سفر کرنا جائز نہیں، اور اس سفر کو کسی مخصوص مسافت کے ساتھ محدود نہیں کیا گیا، جیسا کہ نماز قصر کرنے یا روزہ افطار کرنے کے باب میں بعض اہل علم نے مسافت ذکر کی ہے؛ بلکہ ہر وہ سفر جسے عرف میں سفر کہا جاتا ہو، خواہ طویل ہو یا مختصر، عورت کے لیے اس میں محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔

کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے (1729) اور امام مسلم رحمہ اللہ نے (2391) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘

فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کا بغیر محرم سفر کرنا حرام ہے، البتہ بعض مخصوص صورتیں مستثنیٰ ہیں؛ مثلاً فرض حج کے لیے سفر۔ چنانچہ بعض اہل علم نے قابل اعتماد حج گروپ کے ساتھ اس کی اجازت دی ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"امام بغوی نے کہا: اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ عورت کے لیے فرض حج کے علاوہ کسی اور سفر میں شوہر یا محرم کے بغیر نکلنا جائز نہیں، سوائے چند صورتوں کے: جیسے کوئی کافرہ دار الحرب میں اسلام قبول کر لے، یا کوئی قیدی عورت رہائی پا جائے۔ اور بعض اہل علم نے یہ اضافہ کیا ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے قافلے سے بچھڑ جائے اور اسے کوئی امانت دار شخص مل جائے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اسے اس کے قافلے تک پہنچا دے۔" ختم شد
ماخوذ از: فتح الباری: (4/76)

امام نووی رحمہ اللہ نے ’’ شرح صحیح مسلم ‘‘ میں یہ واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں سفر کسی خاص مسافت کے ساتھ مقید نہیں ہے:
’’ خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ مسافت جسے سفر کہا جاتا ہو، بغیر شوہر یا محرم کے عورت کو اس سے منع کیا جائے گا، خواہ وہ تین دن کا سفر ہو، دو دن کا ہو، ایک دن کا ہو یا اس سے کم یا زیادہ؛ کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وہ حدیث، جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے: ’’عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے‘‘، ہر اس مسافت کو شامل ہے جسے سفر کہا جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔ ‘‘ مختصراً ختم شد

"فتاویٰ اللجنة الدائمة" (17/339) میں ہے:
’’ عورت کے لیے بغیر محرم سفر کرنا مطلقاً حرام ہے، خواہ مسافت کم ہو یا زیادہ۔ ‘‘

لہٰذا اگر آپ کے شہر سے اس مقام تک جانا لوگوں کے عرف میں سفر شمار ہوتا ہے تو آپ کے لیے بغیر محرم وہاں جانا جائز نہیں، اور اگر عرف میں اسے سفر نہیں کہا جاتا تو پھر بغیر محرم جانے میں حرج نہیں۔ رہا یہ کہ راستہ شہروں، اسکولوں اور زرعی زمینوں سے بھرا ہوا ہے، تو اس سے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

دوم:

جہاں تک نماز قصر کرنے، سفر میں روزہ چھوڑنے، اور موزوں پر تین دن تین رات مسح کی مدت کے تعین کا تعلق ہے تو جمہور اہل علم کے نزدیک یہاں سفر کی مقدار مسافت کے اعتبار سے متعین ہے، اور وہ تقریباً 80 کلومیٹر ہے، اور یہ مسافت شہر کی آبادی ختم ہونے کے بعد سے شمار کی جاتی ہے۔
دیکھیے: تحفة المحتاج (2/370)، الموسوعة الفقهية (27/270)

البتہ بعض اہل علم کے نزدیک سفر کی تعیین مسافت سے نہیں بلکہ عرف سے ہوتی ہے۔

مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر (38079) ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: ماجوذ از: كتاب: دليل الاخطاء التى يقع فيھا الحاج و المعتمر