الحمد للہ.
اول:
طلاق میں سنجیدگی اور مذاق، دونوں کا حکم ایک ہے؛ کیونکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تین چیزیں ایسی ہیں کہ سنجیدگی سے کی جائیں تو بھی حقیقتاً نافذ ہوتی ہیں اور مذاق میں کی جائیں تو بھی: نکاح، طلاق اور رجوع۔) اسے ابو داود: (2194)، ترمذی: (1184)، اور ابن ماجہ: (2039)، نے روایت کیا ہے۔ علمائے کرام کا اس حدیث کو صحیح یا ضعیف قرار دینے میں اختلاف ہے۔ البانی نے اسے ’’إرواء الغلیل‘‘ (1826) میں حسن قرار دیا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’عام اہل علم کے نزدیک مذاق میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور اسی طرح مذاق میں کیا گیا نکاح بھی صحیح ہوتا ہے، جیسا کہ مرفوع حدیث کے متن میں ہے۔ صحابہ اور تابعین سے بھی یہی موقف ثابت ہے، اور یہی جمہور کا قول ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’الفتاویٰ الکبریٰ‘‘ (6/63)۔
لہٰذا اگر آپ کے شوہر نے مذاق میں آپ ہی کو مخاطب کر کے کہا تھا: ’’تمہیں طلاق، طلاق، طلاق‘‘، تو یہ مذاق میں دی گئی طلاق ہے، اور اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
لیکن اگر اس کا مقصد یہ الفاظ آپ کو کہنا نہیں تھا، بلکہ وہ صرف طلاق واقع کرنے والے الفاظ نقل کر رہا تھا یا انہیں زبان پر لانا چاہتا تھا، اور اس نے سنجیدگی یا مذاق، کسی بھی طور پر یہ الفاظ آپ کے لیے نہیں کہے تھے، تو یہ محض طلاق کے الفاظ بیان کرنا ہے، اور اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی استاد یا طالب علم کہے: طلاق کی ایک صورت یہ ہے کہ انسان کہے: ’’تمہیں طلاق، طلاق، طلاق‘‘، اور اس کی مراد اپنی بیوی نہ ہو، بلکہ وہ صرف اپنی سیکھی ہوئی بات بیان کرنا یا اسے یاد کرنا چاہتا ہو۔
یا شوہر کسی عالم کے پاس آ کر کہے: میں نے اپنی بیوی سے کہا تھا: ’’تمہیں طلاق ہے۔‘‘ تو سابقہ بات نقل کرنے سے کوئی نئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
شیخ زکریا انصاری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’تیسرا رکن: طلاق کا ارادہ ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ نکاح کا تعلق ختم کرنے کے لیے لفظ کو اس کے معنی کے ساتھ ادا کرنے کا ارادہ ہو۔۔۔ کیونکہ لفظ اور معنی، دونوں کا ارادہ معتبر ہے۔
معنی مراد لینا اس لیے معتبر قرار دیا گیا ہے کہ کسی دوسرے کی طلاق کے الفاظ نقل کرنا، فقیہ کا بطور مثال طلاق کی کوئی صورت بیان کرنا، اور ’طالق‘ نامی عورت کو اس نام سے پکارنا اس حکم میں شامل نہ ہو۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’أسنی المطالب‘‘ (3/280)۔
’’اس نام والی عورت کو پکارنے‘‘ سے ان کی مراد یہ ہے کہ کسی عورت کا نام ’’طالق‘‘ ہو، اور اسے ’’طالق‘‘ یا ’’یا طالق‘‘ کہہ کر بلایا جائے۔
دوم:
اگر سابقہ تفصیل کے مطابق طلاق واقع ہوئی ہو تو صرف ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ راجح موقف کے مطابق تین طلاقیں، خواہ ایک ہی جملے میں دی جائیں، مثلاً: ’’تمہیں تین طلاقیں‘‘، یا الگ الگ الفاظ میں، مثلاً: ’’تمہیں طلاق، طلاق، طلاق‘‘، تو ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر الگ الگ مجلسوں میں طلاق دی گئی ہو، لیکن درمیان میں رجوع یا نیا نکاح نہ ہوا ہو، تب بھی ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ لہٰذا دوسری یا تیسری طلاق، رجوع یا نکاح کے بعد ہی واقع ہوتی ہے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ان تمام صورتوں میں راجح قول یہ ہے کہ تین طلاقیں اسی وقت واقع ہوتی ہیں جب ان کے درمیان رجوع یا نکاح ہوا ہو، ورنہ تین طلاقیں واقع نہیں ہوتیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہی موقف اختیار کیا ہے، اور یہی صحیح ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’الشرح الممتع‘‘ (13/94)۔
مسلمان مرد اور عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے دین کے وہ احکام سیکھیں جن کی انہیں ضرورت ہے۔ مثلاً جو نکاح کرنا چاہتا ہو، وہ نکاح کے احکام سیکھے۔ اس میں یہ جاننا بھی شامل ہے کہ کن باتوں سے ایسی طلاق واقع ہوتی ہے جس سے نکاح کا تعلق ختم ہو جاتا ہے۔
واللہ اعلم