ہفتہ 27 ربیع الثانی 1448 - 10 اکتوبر 2026
اردو

کافر کے سلام کا جواب کیسے دیا جائے؟

6583

تاریخ اشاعت : 23-10-2026

مشاہدات : 2

سوال

اگر کوئی کافر ہمیں ’’السلام علیکم‘‘ کہے تو ہم کیا جواب دیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

1۔ سب سے پہلے یہ واضح رہے کہ کافر کو سلام کرنے میں پہل کرنا جائز نہیں۔

کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہودیوں اور عیسائیوں کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو۔۔۔) اسے مسلم نے روایت کیا ہے، حدیث نمبر: (2167)۔

2۔ اگر ان میں سے کوئی ’’السَّام علیکم‘‘، یعنی ’’تم پر موت آئے‘‘ کہے، یا اس کی بات میں سلام کے الفاظ واضح نہ ہوں، تو ہم جواب میں ’’وعلیکم‘‘ کہیں گے۔

چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہودی جب تمہیں سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کوئی ’السَّام علیکم‘ کہتا ہے، لہٰذا تم کہو: ’علیک‘، یعنی تم پر ہو۔) اسے بخاری، حدیث نمبر: (5902)، اور مسلم، حدیث نمبر: (2164)، نے روایت کیا ہے۔

3۔ اگر ہمیں یقین ہو کہ کسی کافر نے شرعی الفاظ کے ساتھ ہمیں سلام کیا ہے، تو اس کے سلام کا جواب دینا واجب ہے یا نہیں؟  اس بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ جمہور کے نزدیک جواب دینا واجب ہے، اور یہی درست ہے۔

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’ان کے سلام کا جواب واجب ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ جمہور کے نزدیک جواب دینا واجب ہے، اور یہی درست ہے۔ ایک گروہ کا کہنا ہے کہ ان کے سلام کا جواب دینا واجب نہیں، جیسے اہل بدعت کے سلام کا جواب دینا واجب نہیں، بلکہ یہاں بالاولی ان کے سلام کا جواب نہ دیا جائے۔  لیکن درست موقف پہلا ہی ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ ہمیں اہل بدعت سے اس لیے قطع تعلقی کا حکم دیا گیا ہے کہ ان کی تادیب ہو اور لوگ ان سے بچیں، جبکہ اہل ذمہ کا معاملہ ایسا نہیں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’زاد المعاد‘‘ ‏(2/425–426)۔

4۔ جواب دینے والا مسلمان شرعی الفاظ کے ساتھ اس کے سلام جیسا یا اس سے بہتر جواب دے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان عام ہے:

وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا
ترجمہ: ’’اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو اس سے بہتر جواب دو یا وہی الفاظ لوٹا دو۔‘‘ [النساء: 86]

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’اگر سننے والے کو یقین ہو جائے اور کوئی شک نہ رہے کہ ذمی نے اسے ’السلام علیکم‘ کہا ہے، تو کیا وہ ’وعلیک السلام‘ کہہ سکتا ہے یا صرف ’وعلیک‘ کہنے پر اکتفا کرے گا؟ شرعی دلائل اور شریعت کے قواعد کا تقاضا یہ ہے کہ اسے ’وعلیک السلام‘ کہا جائے؛ کیونکہ یہ عدل ہے، اور اللہ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے۔۔۔ یہ بات اس موضوع کی کسی حدیث کے بھی خلاف نہیں؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف ’وعلیکم‘ کہنے کا حکم اسی مذکورہ وجہ سے دیا تھا کہ وہ سلام کرتے ہوئے جان بوجھ کر موت کی بددعا دیتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں آپ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: (کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جب انہوں نے ’السَّام علیکم‘ کہا تو میں نے ’وعلیکم‘ کہہ دیا؟) پھر فرمایا: (جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو کہو: ’وعلیکم‘۔)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ
ترجمہ: ’’اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ایسے الفاظ سے سلام کرتے ہیں جن سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا، اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں: ہماری ان باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا؟‘‘ [المجادلۃ: 8]

پس جب یہ وجہ باقی نہ رہے اور اہل کتاب میں سے کوئی ’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘ کہے، تو سلام میں عدل کا تقاضا ہے کہ اسے اسی کے سلام جیسا جواب دیا جائے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’أحکام أهل الذمۃ‘‘ ‏(1/425–426)۔

عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بخاری، حدیث نمبر: (5901)، اور مسلم، حدیث نمبر: (2165)، نے روایت کی ہے۔

مزید کے لیے : ’’مجموع فتاویٰ ابن عثیمین‘‘ ‏(2/97) بھی ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب