"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "
میں جاننا چاہتا ہوں کہ شریعت میں ہنسی خوشی اور دل بہلانے کی کیا صورتیں ہیں؟ میں فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کے ساتھ ساتھ ناول بھی پڑھتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ حرام ہیں، لیکن کوئی متبادل نہیں ملا۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
الحمد للہ.
’’انسان کو ایک حد تک تفریح، جائز شغل اور آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسانی جان کو دنیا کی مشقت اور آخرت کی تیاری کے لیے مسلسل محنت کرتے ہوئے درمیان آرام بھی ملنا چاہیے، تاکہ انسانی طبیعت ایک ہی روٹین سے اکتا نہ جائے اور دنیا و آخرت کے مفید کاموں میں آگے بڑھنے اور محنت کرنے کی قوت برقرار رہے۔‘‘
جیسے کہ امام بخاری ؒنے حدیث نمبر: 1968 میں عون بن ابی جحیفہ سے روایت کیا ہے کہ ان کے والد کہتے ہیں:
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔ تو اس کے بعد سلمان رضی اللہ عنہ، ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملنے گئے تو ام درداء رضی اللہ عنہا کو بناؤ سنگھار کے بغیر دیکھا۔ ان سے پوچھا: آپ کا یہ کیا حال ہے!؟ انہوں نے کہا: آپ کے بھائی ابو درداء رضی اللہ عنہ کو دنیا سے کوئی دلچسپی نہیں۔ پھر ابو درداء رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے لیے کھانا تیار کیا۔ سلمان نے کہا: آپ بھی کھائیں۔ ابو درداء نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ سلمان نے کہا: جب تک آپ نہیں کھائیں گے، میں بھی نہیں کھاؤں گا۔ چنانچہ انہوں نے کھانا کھا لیا۔ رات ہوئی تو ابو درداء نماز کے لیے اٹھنے لگے۔ سلمان نے کہا: سو جائیں۔ وہ سو گئے۔ پھر اٹھنے لگے تو سلمان نے کہا: سو جائیں۔ جب رات کا آخری حصہ ہوا تو سلمان نے کہا: اب اٹھیں۔ پھر دونوں نے نماز پڑھی۔ سلمان نے ان سے کہا: آپ کے رب کا بھی آپ پر حق ہے، آپ کی جان کا بھی آپ پر حق ہے اور آپ کے گھر والوں کا بھی آپ پر حق ہے؛ اس لیے ہر حق دار کو اس کا حق دیں۔
پھر ابو درداء رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سلمان نے سچ کہا۔)‘‘
الحمد للہ، شریعت میں جائز چیزیں بہت ہیں۔ انسان ان سے دل بہلا سکتا اور حرام چیزوں سے بچ سکتا ہے۔
جائز تفریح کی صورتوں میں شکار، تیراکی، سیرگاہوں میں جانا، اچھے ساتھیوں کے ساتھ ایسے تفریحی سفر کرنا جن میں شرعی ضابطوں کا خیال رکھا جائے، مختلف کھیل اور کمپیوٹر پر ذہنی تفریح کے پروگرام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھی تفریح کی اتنی صورتیں ہیں کہ سب کو یہاں بیان کرنا مشکل ہے۔
اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر لیکچر ’’کھیل اور تفریح کے اصول و ضوابط‘‘ اور مضمون ’’اسلام میں دل بہلانے کا تصور‘‘ بھی ملاحظہ کریں۔
واللہ اعلم