"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "
یہ معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری محبت ہماری اپنی جان اور تمام لوگوں، بشمول انبیائے کرام، سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔ لیکن کیا اللہ کے دیگر انبیاء سے بھی ہماری محبت اللہ کے ہاں ان کی فضیلت کے مطابق کم و بیش ہونی چاہیے، یا یہ عمل انبیائے کرام کے درمیان ممنوعہ تفریق ہوگی؟
الحمد للہ.
انبیائے کرام سے محبت کرنا واجب ہے؛ کیونکہ ان سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ اہل ایمان اور نیک لوگوں میں وہ سب سے بڑھ کر اس بات کے حق دار ہیں کہ اللہ کے لیے ان سے محبت کی جائے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ہم پر انبیائے کرام سے محبت کرنا واجب ہے؛ کیونکہ سچائی، پیغامِ الٰہی پہنچانے، صبر اور مشکلات برداشت کرنے میں ان کا بلند مقام ہے۔ ہم ان سے اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، اور جن لوگوں سے ہم اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، ان میں انبیائے کرام سرفہرست ہیں۔ چنانچہ جب ہم پر کسی شخص سے اللہ کے لیے محبت کرنا واجب ہے تو انبیائے کرام سے کہیں بڑھ کر محبت کرنا واجب ہے۔‘‘ ختم شد
ابن عثیمین کی ’’لقاء الباب المفتوح‘‘ سے ماخوذ۔
انبیائے کرام کی فضیلت کے درجات کے مطابق ان سے ہماری محبت بھی کم و بیش ہوتی ہے۔ جو زیادہ افضل ہے، اس سے محبت بھی زیادہ ہوگی؛ کیونکہ ان سے ہماری محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کے تابع ہے۔ لہٰذا جس نبی سے اللہ زیادہ محبت کرتا ہے، ہم بھی اس سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ یہ فرق ان کی فضیلت کے درجات کے مطابق ہوتا ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’انسانوں سے ہر قسم کی محبت اور ان کی تعظیم اللہ کی محبت اور تعظیم کے تابع ہی جائز ہے، جیسے اللہ کے رسول سے محبت اور ان کی تعظیم؛ کیونکہ یہ انہیں بھیجنے والے کی محبت اور تعظیم کی تکمیل کا حصہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی امت آپ سے اس لیے محبت کرتی ہے کہ اللہ آپ سے محبت کرتا ہے، اور آپ کی تعظیم و توقیر اس لیے کرتی ہے کہ اللہ نے آپ کو عظمت بخشی ہے۔ لہٰذا یہ اللہ کے لیے محبت ہے، جو اللہ کی محبت کے تقاضوں میں شامل ہے۔ اسی طرح اہل علم و ایمان اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت اور ان کی تکریم بھی اس محبت کے تابع ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو ان سے ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’جلاء الأفهام‘‘، صفحہ: 187۔
اور تمام انبیائے کرام ہمارے ہاں محبوب اور لائقِ تعظیم و تکریم ہیں۔ ان سب پر اللہ کا رحمت و سلامتی ہو۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ہماری محبت ہے۔ ہم ان سب سے محبت کرتے ہیں، لیکن ان میں جو زیادہ افضل ہیں، ان سے دوسروں کی نسبت زیادہ محبت کرتے ہیں؛ کیونکہ محبت فضیلت کے تابع ہے۔
ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’شیخ الاسلام، اپنے دور کے محقق، ابو زرعہ ولی الدین عراقی رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو چاروں خلفاء کی فضیلت کو معروف ترتیب کے مطابق تسلیم کرتا ہے، لیکن ان میں سے کسی ایک سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ کیا وہ گناہ گار ہوگا؟
انہوں نے جواب دیا: محبت کسی دینی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے اور کسی دنیوی وجہ سے بھی۔ دینی محبت فضیلت کا لازمی تقاضا ہے؛ لہٰذا جو زیادہ افضل ہوگا، اس سے ہماری دینی محبت بھی زیادہ ہوگی۔ اگر ہم ان میں سے کسی ایک کو زیادہ افضل سمجھیں، لیکن دینی اعتبار سے کسی دوسرے سے زیادہ محبت کریں تو یہ تضاد ہوگا۔۔۔
چنانچہ جو شخص یہ تسلیم کرتا ہو کہ اس امت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابو بکر، پھر عمر، پھر عثمان، پھر علی ہیں، لیکن مثلاً ابو بکر کی نسبت علی سے زیادہ محبت کرتا ہو، تو اگر یہ دینی محبت ہے، تو اس کی کوئی معقول توجیہ نہیں؛ کیونکہ جیسا کہ ہم نے واضح کیا ہے، دینی محبت فضیلت کا لازمی تقاضا ہے۔ ایسے شخص نے ابو بکر کی افضلیت کا اعتراف صرف زبان سے کیا ہے، جبکہ دل میں وہ علی کو افضل سمجھتا ہے؛ کیونکہ وہ علی سے ابو بکر کی نسبت زیادہ دینی محبت کرتا ہے، اور یہ جائز نہیں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’الصواعق المحرقۃ‘‘ (1/187–188)۔
اس بنا پر مومن تمام انبیائے کرام سے محبت کرتا ہے، اور ان میں جو زیادہ فضیلت رکھتا ہے، اس سے اس کی محبت بھی زیادہ ہوتی ہے۔
واللہ اعلم