"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "
ہم چند افراد ہیں جو اہل خیر کی جانب سے ملنے والے صدقات کے ذریعے کچھ غریب گھرانوں کی کفالت کرتے ہیں۔ ان میں بعض گھرانے ایسے ہیں جن کے بعض افراد (خواہ مرد ہوں یا عورتیں) کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر وہ صدقہ لینے کے عادی ہو گئے ہیں۔ اب حالت یہ ہے کہ جب ان کے لیے روز گار کا کوئی مناسب موقع فراہم کیا جاتا ہے تو وہ اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ مثلاً: سِلائی کا کام، اسکول میں نائب قاصد یا چپڑاسی کی ملازمت، یا اسکول یا محلے میں کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرنا وغیرہ۔
سوال یہ ہے: کیا ہم ان لوگوں کو صدقہ دے کر اس رقم کو درست مصرف میں خرچ کر رہے ہیں؟ کیا ہم ان کے اندر روزی کمانے سے سستی اور کاہلی پیدا کرنے کے ذمہ دار تو نہیں بن رہے؟ اور اگر ہم انہیں صدقہ دینا بند کر دیں تو کیا ہم گناہگار ہوں گے؟
الحمد للہ.
اول:
آپ حضرات جو فقراء و مساکین کی کفالت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، یہ نہایت نیک اور باعثِ اجر عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کے اس عمل کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اسے آپ کے لیے باعثِ برکت بنائے۔
دوم:
صدقہ دو اقسام کا ہوتا ہے:
اس بنا پر زکاۃ ایسے شخص کو دینا جائز نہیں جو محنت کر کے اپنی ضروریات پوری کرنے کی قدرت رکھتا ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
’’زکاۃ میں نہ کسی مالدار کا حصہ ہے، نہ ایسے شخص کا جو کمائی کی طاقت رکھتا ہو۔‘‘
سنن ابو داود: 1633، اور اسے البانی نے "إرواء الغلیل" 876 میں صحیح قرار دیا ہے۔
چنانچہ اس بارے میں امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’نفلی صدقہ مالدار کو دینا جائز ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ دینے والے کو اس پر اجر ملتا ہے، تاہم مستحق کو دینا افضل ہے۔ ہمارے فقہائے کرام کہتے ہیں: مالدار کے لیے بہتر ہے کہ وہ ایسے صدقے کو لینے سے بچے، اور بغیر ضرورت کے صدقے کا طلب گار بننا مکروہ ہے۔ اور اگر کوئی مالدار شخص جھوٹ موٹ کی غربت ظاہر کر کے نفلی صدقہ لے تو یہ حرام ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: (المجموع: 6/236)
اس بنا پر: اگر آپ ان گھرانوں کو زکاۃ کی رقم دے رہے ہیں، تو وہ صرف انہی کے لیے جائز ہے جو واقعی فقراء ہیں اور اپنی محنت سے گزر بسر نہیں کر سکتے۔
لیکن اگر آپ کی دی ہوئی رقم نفلی صدقہ یا عام خیرات کی ہے، تو ایسے افراد کو دینا بھی جائز ہے، تاہم بہتر یہ ہے کہ اسے ان لوگوں پر خرچ کیا جائے جو حقیقی طور پر ضرورت مند ہیں، تاکہ ان کی حاجت پوری ہو سکے۔
اور اگر آپ ان لوگوں کو دینا بند کر دیں جو کام کر کے کما سکتے ہیں، تو آپ پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ وہ دراصل مستحق نہیں۔
اسی طرح اگر صدقہ دینے والے نے خاص طور پر یہ شرط لگائی ہو کہ اس کا مال صرف فقراء پر خرچ کیا جائے، تو پھر لازم ہے کہ وہ صرف فقراء ہی کو دیا جائے، اور ایسے لوگوں کو نہ دیا جائے جو غنی ہیں یا محنت مزدوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
آپ کو چاہیے کہ جو افراد محنت کی استطاعت رکھتے ہیں، انہیں نرمی اور خیر خواہی سے سمجھائیں کہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے کوئی جائز کام اختیار کریں، تاکہ وہ عزتِ نفس کے ساتھ اپنی اور اپنے گھر والوں کی کفالت کر سکیں۔
واللہ اعلم