"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "
میاں بیوی کے درمیان مباشرت یا بوس و کنار کے دوران دو صورتیں پیش آ سکتی ہیں: ایک یہ کہ عورت جنسی لذت کی انتہا کو پہنچ جائے مگر اس سے کوئی مادہ خارج نہ ہو، اور دوسری یہ کہ وہ اسی حالت میں کسی رطوبت کے ساتھ انزال بھی ہو جائے۔ اسی ضمن میں میں نے ایک بات پڑھی ہے کہ اگر عورت کو کوئی رطوبت نظر آئے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورت کے جسم سے خارج ہونے والے مادے کی دو اقسام ہیں: پہلی: وہ جو معروف طور پر منی کہلاتی ہے، اور دوسری: وہ جو اندام نہانی کو نم رکھنے کے لیے خارج ہوتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر شوہر بیوی سے بوس و کنار کرے اور وہ شہوت کی انتہا کو پہنچ جائے مگر انزال نہ ہو، تو کیا ایسی حالت میں عورت جنبی ہو جائے گی اور اس پر غسل واجب ہو گا؟
زوجین کو اس بات کا بخوبی علم ہونا چاہیے کہ جنابت کی حالت میں غسل واجب ہونے کے دو بنیادی اسباب ہیں:
1) ہمبستری (جماع): یعنی مرد کا اپنی بیوی کی شرمگاہ میں عضو داخل کرنا، خواہ انزال نہ ہو۔
2) منی خارج ہونا، اس کی دلیل سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (غسل کا پانی ؛ منی کے خارج ہونے سے واجب ہوتا ہے۔)
الحمد للہ.
خاوند اور بیوی کو علم ہونا چاہیے کہ جماع کرتے ہوئے غسل کا موجب بننے والے امور دو ہیں:
امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’ انزال کے بغیر بھی اگر عضو مخصوص کا اگلا حصہ فرج میں داخل ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے، اور اس مسئلے پر امت کا اجماع ہے۔ اگرچہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بعد کے بعض اہل علم میں اس پر اختلاف رہا، تاہم بعد میں اس پر مکمل اتفاق ہو گیا، اور اس کی تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں۔ ‘‘ شرح صحیح مسلم: (4 / 40، 41)
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (36865) ، (83570) ، (2458) اور (12317) کا جواب ملاحظہ کریں۔
عورت اور مرد کی منی میں فرق پایا جاتا ہے: مرد کی منی سفید اور گاڑھی ہوتی ہے، جبکہ عورت کی منی زردی مائل اور پتلی۔ جیسے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (یقیناً مرد کی منی گاڑھی اور سفید ہوتی ہے جبکہ عورت کی منی پتلی اور زرد ہوتی ہے۔) مسلم(311)
یہی وہ منی ہے جس کے نکلنے پر مرد و عورت دونوں پر غسل فرض ہو جاتا ہے۔
واللہ اعلم