"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "
محرم رشتہ داروں کو سلام کرتے ہوئے انہیں بوسہ دینا اور ہاتھ ملانا کیسا ہے؟ اگر یہ عمل جائز ہے تو وہ کون سے محرم رشتہ دار ہیں جن سے یہ عمل جائز ہے؟ نیز کیا اس میں رضاعی رشتہ دار بھی شامل ہوں گے؟
الحمد للہ.
’’ کسی مرد کا اپنے محرم رشتہ داروں سے مصافحہ (ہاتھ ملانا) یا بوسہ لینا اور کسی عورت کا اپنے محرم رشتہ داروں سے یہی معاملہ کرنا، اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہ دونوں کام جائز ہیں، بشرطیکہ شرعی حدود کا لحاظ رکھا جائے۔
محرم رشتہ دار وہ ہیں جن سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہوتا ہے، اور ان کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور میں بیان فرمائی:
وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ، أَوْ آبَائِهِنَّ، أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ، أَوْ أَبْنَائِهِنَّ، أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ، أَوْ إِخْوَانِهِنَّ، أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ، أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ، أَوْ نِسَائِهِنَّ، أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ
ترجمہ: اور خواتین اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر، یا اپنے باپوں پر، یا اپنے شوہروں کے باپوں پر، یا اپنے بیٹوں پر، یا اپنے شوہروں کے بیٹوں پر، یا اپنے بھائیوں پر، یا اپنے بھتیجوں پر، یا اپنے بھانجوں پر، یا اپنی خواتین پر، یا اپنی لونڈیوں پر۔ ( سورۃ النور: 31)
اسی طرح ماموں اور چچا وغیرہ سمیت درج ذیل رشتہ دار محرم ٹھہرے :
یہ سب عورت کے لیے محرم ہیں، اور مرد کے لیے بھی یہی اصول اطلاق پذیر ہے۔
کوئی مرد اگر اپنی ماں، دادی، پھوپھی، خالہ، بہن وغیرہ کو بوسہ دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بوسہ سر پر ہو، خاص طور پر جب وہ عورت بڑی عمر کی ہو۔ اسی طرح ناک یا رخسار (گال) پر بوسہ دینا بھی جائز ہے۔
تاہم علما کی اکثریت نے ہونٹوں پر بوسہ دینے کو مکروہ قرار دیا ہے، سوائے شوہر اور بیوی کے درمیان۔ اس لیے بہتر اور مناسب یہی ہے کہ منہ پر بوسہ صرف شوہر و بیوی کے درمیان ہو، جبکہ رشتہ داروں کے لیے بوسہ کا محل سر، ناک یا رخسار ہونا چاہیے۔
رضاعی رشتہ داروں کا بھی یہی حکم ہے۔
یہ حکم صرف نسبی رشتہ داروں تک محدود نہیں، بلکہ رضاعت (دودھ پلانے) کی وجہ سے جو رشتے حرمت میں داخل ہوتے ہیں، ان پر بھی یہی حکم لاگو ہوتا ہے۔
جیسے:
یہ سب محرم ہیں، جیسے نسبی رشتے دار محرم ہوتے ہیں؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رضاعت سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں‘‘۔
اسی طرح مصاہرت (رشتہ ازدواج) کی وجہ سے بھی بعض رشتہ دار محرم بنتے ہیں، جیسے شوہر کا باپ، شوہر کا بیٹا، ان سب کا حکم بھی وہی ہے، خواہ وہ نسب سے ہوں یا رضاعت سے۔
لہٰذا جب ان سے میل جول اور تعلقات شرعی طور پر جائز ہیں تو مصافحہ (ہاتھ ملانا) ان کے ساتھ بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔ ‘‘ ختم شد