اسلام سوال و جواب کو عطیات دیں

"براہ کرم ویب سائٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دل کھول کر تعاون کریں۔ "

کیا موزوں پر مسح کرنے کے لیے نیت شرط ہے؟

23-11-2025

سوال 112323

کیا جرابوں پر مسح کرنے کے لیے نیت شرط ہے؟ مطلب یہ ہے کہ اگر میرا وضو ہو اور میں جرابیں اس نیت کے بغیر پہنوں کہ میں ان پر مسح بھی کروں گا تو کیا میں ان پر آئندہ وضو میں مسح کر سکتا ہوں؟ کیونکہ میں نے تو جرابیں گھر سے باہر جانے کے لیے پہنی تھیں۔

جواب کا خلاصہ:

جرابوں پر مسح کرنے کے لیے انہیں پہنتے ہوئے مسح کرنے کی نیت سے پہننا ضروری نہیں ہے، چنانچہ اگر کسی نے وضو کی حالت میں جرابیں پہنیں تو وہ مقیم ہونے کی صورت میں ایک دن اور رات، جبکہ مسافر ہونے کی صورت میں تین دن اور رات تک مسح کر سکتا ہے۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

جرابوں پر مسح کرنے کے لیے انہیں پہنتے ہوئے مسح کرنے کی نیت سے پہننا ضروری نہیں ہے، چنانچہ اگر کسی نے وضو کی حالت میں جرابیں پہنیں تو وہ مقیم ہونے کی صورت میں ایک دن اور رات، جبکہ مسافر ہونے کی صورت میں تین دن اور رات تک مسح کر سکتا ہے۔ موزوں اور جرابوں پر مسح کرنے کی شرائط جاننے کے لیے سوال نمبر: (9640) کا جواب ملاحظہ کریں۔

الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا موزوں پر مسح کرنے کے لیے انہیں پہنتے ہوئے مسح کرنے اور مدتِ مسح کی نیت کرنا شرط ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:
"یہاں نیت واجب نہیں ہے؛ کیونکہ شریعت میں مسح کو صرف اس بات سے منسلک کیا گیا ہے کہ موزوں کو وضو کی حالت میں پہنا گیا ہو، اس لیے یہاں نیت کی ضرورت نہیں ہے۔ تو یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ انسان -مثال کے طور پر-لباس پہنے تو یہاں یہ شرط نہیں لگائی گئی کہ انسان نماز میں اپنا ستر ڈھانپنے کی نیت بھی کرے۔ اس لیے موزے پہنتے ہوئے ان پر مسح کرنے کے لیے مسح کی نیت کرنا شرط نہیں ہے، ایسے ہی مدتِ مسح کی نیت کرنا بھی شرط نہیں ہے۔ بلکہ اگر مسح کرنے والا شخص مسافر ہے تو تین دن اور راتیں مسح کر سکتا ہے چاہے اس نے نیت کی ہو یا نہ کی ہو۔ اسی طرح اگر مسح کرنے والا شخص مقیم ہے تو ایک دن اور رات مسح کر سکتا ہے چاہے اس نے مسح کی نیت کی ہو یا نہ کی ہو۔" ختم شد
مجموع فتاوی ابن عثیمین رحمہ اللہ (11/117)

واللہ اعلم

موزوں اور جرابوں پر مسح
اسلام سوال و جواب ویب سائٹ میں دکھائیں۔